Home›Books›Fiction and literature›Khuda Ki Basti (Special Edition)
Khuda Ki Basti (Special Edition) book cover

Khuda Ki Basti (Special Edition)

No ratings yet
Rs 2,500
Ships from Lahore, arrives in 2–5 days
Courier charge is paid to the courier on delivery (TCS)
Cash on delivery available
Report a problem within 7 days of delivery
1
Best offer
Rs 2,500

Compare sellers

SellerConditionDeliveryPrice
Ferozsons
Lahore
New
2–5 days
Courier paid on delivery
Rs 2,500

More in Fiction and literature

Rumi East and West book cover
Rumi East and WestRs 1,495
The Love of Rumi book cover
The Love of RumiRs 1,295
Total
Rs 5,290

About Khuda Ki Basti (Special Edition)

شوکت صدیقی پیدائش، 20 مارچ 1923ء، لکھنؤ، 1946ء، سیاسیات میں ایم اے، 1950ء، کراچی آمد۔ مختصر کہانیوں اور ناولوں کے مایہ ناز قلم کار اور ممتاز صحافی۔ 1944ء میں…

شوکت صدیقی پیدائش، 20 مارچ 1923ء، لکھنؤ، 1946ء، سیاسیات میں ایم اے، 1950ء، کراچی آمد۔ مختصر کہانیوں اور ناولوں کے مایہ ناز قلم کار اور ممتاز صحافی۔ 1944ء میں عملی زندگی کا آغاز ماہنامہ ’’ترکش‘‘ سے کیا، کئی انگریزی اور اُردو اخبارات سے وابستہ، روزنامہ ’’مساوات‘‘ کراچی کے بانی مدیر، روزنامہ ’’انجام‘‘ کراچی کے چیف ایڈیٹر اور عرصے تک ہفت روزہ ’’الفتح‘‘ کراچی کے سربراہ رہے۔ اُن کے متعدد ساتھی کارکن آج ملک کے بڑے ادیبوں اور صحافیوں میں شمار کیے جاتے ہیں، صحافت میں اُنھیں اپنا معلّم سمجھتے اور بابائے صحافت کے خطاب سے یاد کرتے ہیں۔ شوکت صدیقی پاکستان رائٹرز گِلڈ کے جنرل سیکرٹری اور انجمن ترقی پسند مصنّفین کے صدر رہے۔ اُردو کے بڑے ناول نگاروں کی کوئی فہرست اُن کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ ناول نگاری کی ابتدا 1945ء میں ’’کمین گاہ‘‘ سے کی ۔ دوسرا اور معرکہ آرا ناول ’’خدا کی بستی‘‘ 1958ء میں منصہ شہود پر آیا اور وجۂ شہرت بنا۔ 1960ء میں اس کی مقبولیت کے باعث شوکت صدیقی کو پہلا آدم جی ادبی انعام ملا۔ 1969ء میں پاکستان ٹیلی وژن پر پیش کیا گیا۔ یہ اُردو زبان کا واحدناول ہے جس کے 42زبانوں میں تراجم ہوئے۔ انگریزی میں ڈیوڈ میتھیوز نے“God's Own Land: A Novel of Pakistan”کے نام سے ترجمہ کیا۔ بنگلا میں اس ناول کے ترجمے کو حبیب بینک انعام سے نوازا گیا۔ بچپن کی یادوں پر مشتمل تیسرا ناول ’’کوکا بیلی‘‘ 1962ء میں شائع ہوا۔ اسے ازسرِنو تحریر کیا اور 1990ء میں ’’چار دیواری‘‘ کے نام سے شائع کروایا۔ چوتھا اور آخری ناول ’’جانگلوس‘‘ طویل عرصے تک سب رنگ ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوتا رہا۔ بعد میں تین جلدوں پر محیط کتابی شکل میں چھپا۔ اس ناول کو پنجاب کی الف لیلہ بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان ٹیلی وژن پر بھی پیش کیا گیا، لیکن ٹیلی وژن کی بعض پالیسیوں کی وجہ سے اسے مکمل نشر نہ کیا جا سکا۔ شوکت صدیقی کی دیگر تصانیف میں افسانوں کے مجموعے ’’تیسرا آدمی‘‘(1952ء)، ’’اندھیرا اور اندھیرا‘‘ (1955ء)، ’’راتوں کا شہر‘‘ (1956ء)، ’’کیمیاگر‘‘ (1984ء) اور سیاسی و تاریخی مضامین کے مجموعے ’’طبقاتی جدوجہد اور بنیادپرستی‘‘ (1988ء)، ’’گمشدہ اوراق‘‘ (2011ء) اور ’’جُہدِ قلم‘‘ (2024ء) شامل ہیں۔ ’’جانگلوس‘‘ لکھنے پر حکومتِ پاکستان نے اُنھیں 1997ء میں صدارتی تمغا برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا اور 2003ء میں ان کی ادبی خدمات کے صلے میں ستارۂ امتیاز عطا کیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان نے 2002ء میں کمالِ فن ایوارڈ اور 2004ء، دوحہ (قطر) میں عالمی فروغِ اُردو ادب کے ایوارڈ سے سرفراز کیا۔ وہ 18 دسمبر، 2006ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ 20 مارچ 2023ء کو دُنیا کے مختلف ملکوں میں شوکت صدیقی کا صد سالہ یومِ ولادت جوش و عقیدت سے منایا گیا۔ اس موقع پر بک کارنر جہلم نے بھی اُن کے ناول ازسرِنو کتابت کروائے اور تمام تر اہتمام سے شائع کیے۔

Book details

Details of Khuda Ki Basti (Special Edition)
LanguageUrdu

Ratings and reviews

No reviews yet. Reviews come only from customers who bought and received this book.

Customers also viewed

See all ›