Paris Mein Ek Din by Mustansar Hussain Tarar book cover

Paris Mein Ek Din

by Mustansar Hussain Tarar · ISBN 9789693536829
No ratings yet
Rs 1,050Rs 1,400-25%
Ships from Lahore, arrives in 2–5 days
Courier charge is paid to the courier on delivery (TCS)
Cash on delivery available
Report a problem within 7 days of delivery
1
Best offer
Rs 1,050

Compare sellers

SellerConditionDeliveryPrice
New
2–5 days
Courier paid on delivery
Rs 1,050Rs 1,400

More by Mustansar Hussain Tarar

About Paris Mein Ek Din

اوراِک دن کسی دیارمیں.. تو کون سے دیار میں صرف اِک دن.. پیرس کے دیار میں..

اوراِک دن کسی دیارمیں..

تو کون سے دیار میں صرف اِک دن..

پیرس کے دیار میں.. وہ ایک دن بھی پوری حیات پر محیط ہوسکتا ہے اگراُس کے ہر لمحے میں، ذہن میں معدوم ہوچکی یادوں کے بے شمار بجھے ہوئے چراغ ہوں.. زمانوں کی ُتند ہوائوں نے ایک ایک کرکے سب چراغ بجھا دیئے، ُکچھ جن میں دیوانگیٔ سفر کا تیل جلتا تھا وہ بجھ گئے کہ تیل کہاں تک جلتا، تراسّی برس کی ُعمر تک کیسے جلتا،تو چلو پیار کے پہلے شہر میں چلتے ہیں، کیا پتااُن کب کے بجھ چکے چراغوں میں سے کوئی ایک آتش شوق سے جل اٹھے اوراُس کی مدھم َلو میں کوئی چہرہ جھلکنے لگے جو کب کا ُبھول چکا،اور اُس چہرے پر بھی زمانوں کی دُھول جمی ہو، ساٹھ برس سے زیادہ کی دُھول.. وہ شنا سا تو لگے پر پہچانا نہ جائے..اتنے عرصے گزر گئے، بے انت برس بیت گئے، یہ برس اور عرصے کب کے حائل ہوچکے چراغوں کی مانند بجھ چکی یادداشت کی گہری دُھند میں.. گمان ہوتا ہے کہ وہ چہرہ کبھی تھا ہی نہیں، اُس کا وجود میرے ذہن کا فتور ہے، میں نے جب اُسے لکھا تو ایک فریب اور سراب میں مبتلا ہوکر لکھا، خود ہی حرفوں سے ایک وینس ڈی میلو ایسا چہرہ اور بدن اپنے تصوّر سے تراش لیا ورنہ وہ تھا ہی نہیں،اُس آتش شوق سے جل اٹھنے والے چراغ کی َلو میں اُس دُھندلے پڑتے چہرے کے پس منظر میں ایک شہر تھا جو ریت کی دیواروں سے بنا تھا .شہر تو نہ تھا اُس کے شائبے تھے کہ ریت کی دیواریں کب کی، وقت کی بے رحم بارشوں سے مسمار ہوچکی تھیں.

اور وہ شہر پیرس تھا..

جیسے بسنت میں، بہار میں، خمار میں، بے انت میں ایک دن، ایسے پیرس میں بھی ایک دن.. بس ایک دن..

کیا پیرس میں بسر کئے جانے والے صرف ایک دن کی روئداد کے بارے میں ایک پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے..؟

اگرآئیون ڈنسوچ کی زندگی کے ایک دن کے بارے میں سولزےنتسن ایک ناولٹ لکھ سکتا ہے..

اگر جیمز جوائس ڈبلن کے ایک دن کے بارے میں اس صدی کے بڑے ناولوں میں سے ایک ’’یولیسس‘‘ لکھ سکتا ہے..

تو پھر پیرس تو پیرس ہے..اگرچہ میں سولزے نتسن یا جیمز جوائس تو نہیں ہوں لیکن میرے پاس ایک کب کے بجھ چکے چراغ کے جل اٹھنے کا امکان تو ہے..ـ پیرس میں ایک دن

کہا ہے کس نے کہ غالبؔ ُبرا نہیں، لیکن

سوائے اس کے کہ آشفتہ سر ہے، کیا کہئے

Book details

Details of Paris Mein Ek Din
AuthorMustansar Hussain Tarar
PublisherSang-e-Meel Publications
LanguageUrdu
Pages208
Published2025
ISBN9789693536829

Ratings and reviews

No reviews yet. Reviews come only from customers who bought and received this book.

Customers also viewed

See all ›