Home›Books›Biography and autobiography›Shamim Hanfi: Yaadein, Baatein, Tehreerein (Urdu)
Shamim Hanfi: Yaadein, Baatein, Tehreerein (Urdu) by Sarwar Ul Huda book cover

Shamim Hanfi: Yaadein, Baatein, Tehreerein (Urdu)

by Sarwar Ul Huda · Paperback · ISBN 9789696403364
No ratings yet
Rs 719Rs 799-10%
Ships from Lahore, arrives in 2–5 days
Courier charge is paid to the courier on delivery (TCS)
Cash on delivery available
Report a problem within 7 days of delivery
1

Only 4 left from this seller

Best offer
Rs 719

Compare sellers

SellerConditionDeliveryPrice
Readings
Lahore
New
2–5 days
Courier paid on delivery
Rs 719Rs 799

More in Biography and autobiography

Baba Sahba by Ashfaq Ahmad book cover
Baba SahbaRs 2,925
Total
Rs 4,154

About Shamim Hanfi: Yaadein, Baatein, Tehreerein (Urdu)

پروفیسر سرورالہدیٰ معاصر اردو تنقید میں سر بر آوردہ ہیں۔ انھیں کلاسیکی ، جدید اور معاصر ادب کے مطالعے اور تفہیم و تعبیر سے گہری اور ولولہ انگیز دل چسی ہے ۔ اس…

پروفیسر سرورالہدیٰ معاصر اردو تنقید میں سر بر آوردہ ہیں۔ انھیں کلاسیکی ، جدید اور معاصر ادب کے مطالعے اور تفہیم و تعبیر سے گہری اور ولولہ انگیز دل چسی ہے ۔ اس دل چسپی کا اظہار ان تینوں ادوار کی چیدہ چیدہ وممتاز شخصیات پر کتب کی صورت میں ہوا ہے۔ وہ پرانے اور نئے، مشرقی اور مغربی تنقیدی تصورات کا تجزیاتی فہم رکھتے ہیں، اور ان کے اطلاق کے ضمن میں، ایک مخصوص نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ ان کے تنقیدی نقطہء نظر کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ دو ادب کو انسانی تجربے اور احساسات سے الگ نہیں دیکھتا۔ وہ ان تنقیدی تصورات پر سوال قائم کرتے ہیں، جو متن کے ہیئتی، اسلوبی اور تکنیکی وسائل ہی پر مرتکز ہوتے ہیں، اور اس دوران ، انسانی تجربے کو منہا کرتے چلے جاتے ہیں ۔

وہ تنقید کی اس خصوصیت کو شمیم حنفی کی تنقیدی تحریروں میں، پوری شدت اور کمال سے، بر سرِ عمل دیکھتے ہیں اور اپنے نقطہ نظر کے لیے توثیق حاصل کرتے ہیں۔ وہ شمیم صاحب کی تنقیدی تحریروں کا مطالعہ، گہری نظر سے اور نشاط انگیز احساس کے ساتھ کرتے ہیں۔ شمیم صاحب ، ادب سے تعلق ، رمی اور ثقافتی سے زیادہ، ایک شخصی ، احساساتی سطح پر قائم کرتے تھے۔ ان کے نزدیک ، ادب انسانی وجود کی سب سے ممتاز سرگرمی ہے ۔ اس امر کا احساس ادب کے مطالعات میں بھی دلایا جانا چاہیے۔ یعنی تنقید ، اس ولولے، تشویش ، رنج و راحت شکست و یکجائی کے جملہ احساسات کو گرفت میں لے ، جن سے کوئی فن پارہ وجود میں آتا ہے۔ اس بنا پر شمیم صاحب ، ان ادبی تحریروں کو الگ کرتے تھے، جن میں صناعی تو ہوتی ہے، ہستی کی آگ نہیں۔ سرورالہدیٰ ، شمیم صاحب کی یادوں اور باتوں کو لکھتے ہوئے ، شمیم صاحب کی تنقید کی اس خصوصیت کو نمایاں کرتے چلے جاتے ہیں۔

سرورالہدیٰ کی اس کتاب سے ہمیں یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ شمیم صاحب کی گفتگوؤں اور تحریروں میں ایک فطری ہم آہنگی تھی ۔ ان کا تنقیدی نقطہ نظر دنیا کو دکھانے کے لیے نہیں تھا، خود ان کے اپنے وجود کی ساخت کا لازمی حصہ تھا۔ وہ جس نرم روی سے ، ادب ، آرٹ ، موسیقی ، شخصیات ، تصورات پر بات کرتے تھے، نجی محفلوں اور ادبی مجالس میں ، اپنی تحریروں میں بھی اسی نرم ، شائستہ اسلوب کو برقرار رکھتے تھے ۔ طنز و تعریض اور تفاخر و تردید، ان کے رسمی و غیر رسمی اسلوب کا حصہ نہیں تھے۔ اس کتاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ سرورالہدیٰ نے شمیم صاحب کی باتوں اور یادوں کی مدد سے، نصف صدی کے قریب عبد کی ادبی و جمالیاتی وفکری تاریخ کو بھی مرتب کر دیا ہے، ایک ایسے زاویے سے جو ادب اور انسانی تجربے کو تاریخ کے مرکز میں رکھتا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ کہانی کے انداز ، رواں اور دل کش اسلوب میں لکھی گئی یہ کتاب، اردو ادب میں ایک گہ انقش قائم کرے گی۔ ناصر عباس نیّر

Book details

Details of Shamim Hanfi: Yaadein, Baatein, Tehreerein (Urdu)
AuthorSarwar Ul Huda
PublisherReadings
LanguageUrdu
Pages312
FormatPaperback
ISBN9789696403364

Ratings and reviews

No reviews yet. Reviews come only from customers who bought and received this book.

Customers also viewed

See all ›