Sher Darya by Raza Ali Abidi book cover

Sher Darya

by Raza Ali Abidi · ISBN 9789693522594
No ratings yet
Rs 1,050Rs 1,400-25%
Ships from Lahore, arrives in 2–5 days
Courier charge is paid to the courier on delivery (TCS)
Cash on delivery available
Report a problem within 7 days of delivery
1
Best offer
Rs 1,050

Compare sellers

SellerConditionDeliveryPrice
New
2–5 days
Courier paid on delivery
Rs 1,050Rs 1,400

More by Raza Ali Abidi

Sher Darya by Raza Ali Abidi book cover
Sher DaryaRs 1,050
Begum Sumro by Raza Ali Abidi book cover
Begum SumroRs 850
Pehla Tara by Raza Ali Abidi book cover
Pehla TaraRs 300
Total
Rs 2,200

About Sher Darya

اب کے قصہ دریائے سندھ کا ہے۔ تبت والے کہتے ہیں کہ یہ دریا شیر کے منہ سے نکلتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے اسے شیردریا کا نام دیا ہے۔ اس میں کمال دریا کا نہیں، اس…

اب کے قصہ دریائے سندھ کا ہے۔

تبت والے کہتے ہیں کہ یہ دریا شیر کے منہ سے نکلتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے اسے شیردریا کا نام دیا ہے۔ اس میں کمال دریا کا نہیں، اس شیرکا ہے جس نے اپنے قبیلے کی روایت توڑ کر کوئی نعمت نگلی نہیں، اُگلی ہے۔ لیکن جیسے جیسے یہ دریا آگے بڑھتا ہے۔ کہیں نگلنے کی کہانیاں کثرت سے سننے میں آتی ہیں اور کہیں جبراً اُگلوائے جانے کی ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب دریا کی کہانی نہیں، اس کے کنارے بسنے والوں کی ہزار داستان ہے۔ کہیں یہ دریا دُکھ دیتا ہے۔ کہیں سُکھ بانٹتا ہے اور کہیں سُکھ چھینتا ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ اس کے کنارے پروان چڑھنے والی تهذیبیں کبھی کی کھنڈر ہو چکی ہیں۔ ۔اب تهذیب، تمدن، ترقی اورخوشحالی کے دھارے کہیں اور بہتے ہیں اور ہمارا یہ دریا کہیں اور-

اب اس کتاب کے بارے میں چند باتیں ۔ دریائے سندھ کے کنارے اپنا سفر میں نے ایک مرحلے میں نہیں، تین مرحلوں میں مکمل کیا ۔۱۹۹۰ اور ۱۹۹۱ کے دوران میں گرمیوں میں پہاڑوں پرگیا، سردیوں میں میدانوں کی سیر کو نکلا اور راہ میں بیمار ہوگیا تو تیسری بار سندھ کے ڈیلٹا کا علاقہ دیکھا۔ اگر آپ واقعات میں بے ترتیبی دیکھیں یا تسلسل میں فاصلے محسوس کریں تو جان لیں کہ میں بلا روک ٹوک بہے چلے جانے والا دریا نہیں۔ دوسری بات یہ کہ لداخ کے کچھ علاقوں میں غیرملکیوں کو جانے کی اجازت نہیں۔ میں وہاں نہیں گیا ۔ صوبہ سندھ کے بعض حصوں میں ڈاکو دندناتے پھر رہے تھے۔ مجھے اپنے اغوا کی خبریں چھپوانا منظور نہ تھا ۔ میں اُن سے دور ہی رہا ۔

ایک اور بات یہ کہ میں نے کشتی میں بیٹھ کردریا کا سفر نہیں کیا۔ میں سارے راستے کنارے کنارے چلا۔ کنارے بدلتے رہے ، لوگ نہیں بدلے اور مجھے ان سے ہی غرض تھی۔ اس کتاب کے سارے باب اصل میں ریڈیائی پروگرام کے مسودے ہیں جنہیں اگرچه کتاب کے لیے ذراسا سنوار لیا گیا ہے لیکن پوری تحریر میں گفتگو کا انداز محفوظ ہے۔ پر علاقائی لب و لہجہ بھی ہے۔ بدقسمتی سے یہ لہجہ تحریر میں نہیں سما سکتا۔ اس دریا کے کنارے موسیقی بھی بہت ہے۔ افسوس کہ کتاب بول سکتی ہے، گُنگُنا بھی سکتی ہے، اونچی لَے میں گا نہیں سکتی۔

یہ ممکن ہے اس کتاب پر یاس کا رنگ چھایا ہو، لیکن وہ میری اختراع نہیں ۔ دریائے سندھ کے کنارے بسنے والوں کی زندگی ویسی نہیں جیسے بعض دوسرے علاقوں میں ہے۔ یہ لوگ مشکل حالات میں دلیری سے جی رہے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ دریا سے زیادہ یہ لوگ شیر ہیں۔

یہ کتاب سفرنامہ نہیں ہے، ایک مخصوص علاقے میں بسنے والوں کا سماجی مشاہدہ اور مطالعہ ہے جومستقبل کے محقق کو بتائے گا کہ بیسویں صدی کے خاتمے پر سندھ کے کنارے بسنے والوں کے کیسے کیسے خواب ٹوٹ چکے تھے اور کیسے کیسے نئے خواب انہیں جئے جانے کی اُمنگ عطا کر رہے تھے۔ اس سے بھی بڑھ کر اس کتاب کا مطالعہ آج کے قاری کو بتائے گا کہ جن علاقوں میں جانے کی زحمت کم ہی لوگ کرتے ہیں اُن علاقوں سے دریا کیونکر گزرتا ہے اور زندگی کیسے۔

Book details

Details of Sher Darya
AuthorRaza Ali Abidi
PublisherSang-e-Meel Publications
LanguageUrdu
Pages312
Published2018
ISBN9789693522594

Ratings and reviews

No reviews yet. Reviews come only from customers who bought and received this book.

Customers also viewed

See all ›