
Gaza ke Shareer Bachay (Hardcover)
No ratings yet
Rs 1,200Rs 1,600-25%
Ships from Lahore, arrives in 2–5 days
Courier charge is paid to the courier on delivery (TCS)
Cash on delivery available
Report a problem within 7 days of delivery
1
Best offer
Rs 1,200Compare sellers
| Seller | Condition | Delivery | Price | |
|---|---|---|---|---|
S Sang-e-Meel Publications Lahore | New | 2–5 days Courier paid on delivery | Rs 1,200Rs 1,600 |
More by Mustansar Hussain Tarar
About Gaza ke Shareer Bachay (Hardcover)
###
’’اُن کے مرنے کے موسم بھی نہ تھے‘‘
###
میری لکھنے کی میز تلے..
جب میں لکھتے لکھتے تھک گیا..
تو اپنی کُرسی پر کمر کو آرام دینےکی خاطر..
اُس کی پشت سے ٹیک لگالی..
تب میں نے دیکھا..
میری لکھنے کی میز تلے..
فرش پر ایک شہد کی مکھی تڑپ رہی تھی..
وہ اپنی مہین ٹانگوں پر کھڑے ہونے کی کوشش کرتی اور گرجاتی..
میں دیکھ سکتا تھا کہ وہ جان کنی کے عالم میں ہے..
پر اُس کی جان نہیں نکل رہی تھی.. اذیت میں پھڑپھڑاتی تھی..
اُس کی حالت دیکھی نہ جاتی تھی..
کیا میں اُسے اپنی چپل سے ُکچل دوں..
اُسے اس اذیّت سے نجات دلا دوں..
کیا کروں..
میں اُس کی مدد نہیں کرسکتا تھا..
جیسے میں جب جاں کنی کے عالم میں ہوں گا..
میری بھی کوئی مدد نہیں کرسکے گا..
کُچھ دیر بعد وہ ساکت ہوگئی، مرگئی..
شائد یہ اُس کے مرنے کے موسم تھے..
غزہ کے ہزاروں بچّے بھی..
اس شہد کی مکھی کی مانند، جاں کنی کے عالم میں..
کُل عالم کی آنکھوں کے سامنے.. پھڑپھڑاتے رہے..
اور کسی نے بھی اُن کی مدد نہ کی..
اور وہ مر گئے..
اور اُن کے تو مرنے کے موسم بھی نہ تھے..
(مستنصر حسین تارڑ)
Book details
| Author | Mustansar Hussain Tarar |
|---|---|
| Publisher | Sang-e-Meel Publications |
| Language | Urdu |
| Pages | 80 |
| Format | Hardcover |
| Published | 2026 |
| ISBN | 9789693537758 |
Ratings and reviews
No reviews yet. Reviews come only from customers who bought and received this book.








