Home›Books›Self-help and psychology›Psychology›Istemaar Ki Nafsiyaat (Volume 1) (Urdu)
Istemaar Ki Nafsiyaat (Volume 1) (Urdu) by Akhtar Ali Syed book cover

Istemaar Ki Nafsiyaat (Volume 1) (Urdu)

by Akhtar Ali Syed · Paperback · ISBN 9789696403081
No ratings yet
Rs 899Rs 999-10%
Ships from Lahore, arrives in 2–5 days
Courier charge is paid to the courier on delivery (TCS)
Cash on delivery available
Report a problem within 7 days of delivery
1

Only 4 left from this seller

Best offer
Rs 899

Compare sellers

SellerConditionDeliveryPrice
Readings
Lahore
New
2–5 days
Courier paid on delivery
Rs 899Rs 999

More by Akhtar Ali Syed

About Istemaar Ki Nafsiyaat (Volume 1) (Urdu)

جنوبی ایشیا میں استعماریت کے معاشی تعلیمی ، آئینی ، تاریخی، اشترا کی سماجی ادبی تجزیے تو کیے گئے مگر نفسیاتی تجزیہ اختر علی سید کے حصے میں آیا ہے۔ جنوبی ایشیا…

جنوبی ایشیا میں استعماریت کے معاشی تعلیمی ، آئینی ، تاریخی، اشترا کی سماجی ادبی تجزیے تو کیے گئے مگر نفسیاتی تجزیہ اختر علی سید کے حصے میں آیا ہے۔ جنوبی ایشیا اور خصوصا پاکستانی مسلمانوں کی خود راستی ( اور نرگسیت پسندی و جوہریت پسندی پر پنی نفسیات کیوں کر بنی ہے اور اس نفسیات نے عملی و علمی شدت پسندی کے کن کن مظاہر کو جنم دیا ہے؟ اس سوال کا تجزیہ، ان تحریروں میں ملتا ہے۔ اختر صاحب نے نفسیاتی تجزیے کے لیے مینونی، فرانز فین، فرائیڈ ، امریخ فرام اور اپنے استاد اختر احسن کے نظریات سے استفادہ کیا ہے۔ وہ اپنے نفسیاتی تجزیوں میں ساخت، پیٹرن اور رجحان کی دریافت به طور خاص کرتے ہیں۔ وہ معاصر پاکستانی سماج میں ہونے والے غیر معمولی واقعات : خودکش دھماکے، توہین کے الزام پر آدمی کو جلا دینا، اقلیتوں کے گھروں کو نذر آتش کر ڈالنا، ریپ، فرقہ وارانہ فسادات، سیاسی ولسانی منافرت، وغیرہ کو واقعہ نہیں، رجحان کہتے ہیں۔ نیز بہ ظاہر متلف و متفرق سیاسی، مذہبی، ثقافتی واقعات کے عقب میں ایک ہی پیٹرن کو دریافت کرتے ہیں، جس کا کوئی نہ کوئی تعلق استعماریت اور اس کے پیدا کردہ مذہبی ذہن سے ہے۔ جس طرح ، نفسیاتی عارضے کا سبب سمجھے بغیر محض علامات پر توجہ دینے سے علاج نہیں ہوتا ، اسی طرح سماج کے رجحان کو سمجھے بغیر، سماج کے عوارض کا علاج نہیں کیا جاسکتا۔ یہ کام عوامی دانشور کرتے ہیں۔ پاکستان کا بحران ، عوامی دانشوری کے قحط میں جڑیں رکھتا ہے۔ اختر صاحب، اس لیے اس پہلو کو خاص طور پر ما ایڈورڈ سعید کے دانشور کے تصور کی تفصیل سے وضاحت اہمیت دیتے ہیں۔ وہ گرا وامی دانش وری کے تصور کے تحت تشکیل دیتے بھی محسوس ہوتے کرتے ہیں۔ وہ اپنی تحریروا ہیں۔ ان تحریروں میں پاکستانی سماج کی تصویر تاریک گنجلک اور کٹی پھٹی ، بھیا تک ہے، مگر اصل ہے۔ وہ اس سماج کے تاریک چہرے ہی کو نہیں کے شیڈو کو بھی سامنے لائے ہیں۔ نفسیاتی تجزیہ ہمیں اپنے ہی رو بر ولایا کرتا ہے، اور اپنی حقیقت کا سامنا کرنے کی جرات کا مطالبہ کرتا ہے۔ مجھے اردو میں دانشوارنہ تحریروں پر بنی ایک اہم کتاب کے استقبال کی دلی خوشی ہورہی ہے

Book details

Details of Istemaar Ki Nafsiyaat (Volume 1) (Urdu)
AuthorAkhtar Ali Syed
PublisherReadings
LanguageUrdu
Pages420
FormatPaperback
ISBN9789696403081

Ratings and reviews

No reviews yet. Reviews come only from customers who bought and received this book.

Customers also viewed

See all ›